Posts

Showing posts from May, 2026

ناصر کا بَبلو دیکھ کر میں

Image
ناصر کا ببلو دیکھ کر میں ہائے میرا نام شنو ہےمیری دوست نوشین کی زبانی بڑی زبردست کہانی ہے ہائے میرا نام نوشین ہے میری عمر اِس وقت 30 سال ہے میرے مَمَّوں کا سائز 32 ہے میرا قد 5 فٹ 4 انچ ہے میرے بھائی کا نام ناصر ہے یہ کہانی نہں حقیقت ہے میں اپنی کہانی شروع کرتی ہوں تو سُنو  جب میری عمر 13 سال کی تھی تو میں ناصر کے کمرے صفائی  کرنے آئی ناصر کی الماری صاف کر رھی اچانک الماری کے اوپر مجھے سی ڈی پڑی ہوئی نظر آئی میں نے اٹھا کے ڈیویڈی پلیر میں چلائی تو ننگی فلم تھی جب میں فلم دیکھی تو گرم ھو گئی اور پوری فلم دیکھی اور ختم ھو گئی تو پھر میں نکال کر جلدی سے فلمیں وہی الماری کے اوپر رکھ دی فلم دیکھنے کا مزہ بہت آیا اور پتا بھی چل گیا کے اس طرح کام ھوتا ھے پھر رات کو میرے مَن میں آیا کے دیکھو اِس وقت ناصر کیا کر رہا ھے تو میں ناصر کے روم ڈور کے پاس آئی اور تھوڑا سا ڈور اوپن کر کے دیکھی تو ناصر ننگی فلم دیکھ رہا تھا اور اپنے ببلو کو باہر نکال کر سہلا رہا تھا ناصر کا ببلو جب سے دیکھی تو میری بِلی میں آگ لگ گئی سوچتی ناصر کا ببلو کیسے لوں اور اِسی طرح ہر روز ناصر کا ببلو بھی دیکھتی او...

میں گرلز ہاسٹل پڑھنے آئی

Image
  ھیلو دوستو میرا نام اُوشہ ھے، یہ میری زندگی کا وہ موڑ تھا جس نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ دوستو، یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں صرف تیرہ سال کی تھی۔ میں بچپن ہی سے بہت معصوم، ہنس مکھ اور چنچل سی لڑکی تھی۔ طبیعت میں شرارت کوٹ کوٹ کر بھری تھی اور ضد کی تو پکی تھی، جس بات پر اڑ جاتی، وہی کر کے دم لیتی جو میرا من کہتا۔ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں میں سب سے  چھوٹی اور لاڈلی ہونے کی وجہ سے گھر میں میری ہر ناز نخرے اٹھائے جاتے تھے۔ جب میں چودہ سال کی ہوئی، تو میری اعلیٰ تعلیم کے لیے گھر والوں نے مجھے شہر کے ایک گرلز ہاسٹل بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ہاسٹل کی زندگی میرے لیے بالکل نئی تھی۔ وہاں ہر کمرے میں دو بیڈ لگے تھے اور دو لڑکیاں مل کر ایک روم  شیئر کرتی تھیں۔ ہاسٹل کی وارڈن آنٹی نے مجھے میرا کمرہ دکھایا۔ کمرے میں دوسرا بیڈ خالی دیکھ کر میں پوچھی کہ یہاں کون رہتی ہے؟ آنٹی نے بتایا، "یہ بیڈ کویتا کا ہے، وہ تین دن کے لیے اپنے گھر گئی ہوئی ہے اور آج کسی بھی وقت واپس آ جائے گی۔" یہ کہہ کر آنٹی چلی گئیں۔ میں نے اپنا سامان ایک طرف رکھا۔ میری نظر دیوار پر لگی ایک تصویر پر پڑی، وہ کویتا ...

شادی کیلئے میرے بڑے ارمان تھے

Image
  شادی کیلئے میرے بڑے ارمان سے "شادی کے لیے میرے بڑے ارمان تھے۔ ہر لڑکی کی طرح میں نے بھی سوچا تھا کہ ایک نیا گھر ہوگا، محبت کرنے والا شوہر ہوگا، اور میری اپنی ایک چھوٹی سی دنیا ہوگی۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میری قسمت میں صرف آنسو اور ذلت لکھی ہے۔ شادی کی پہلی رات ہی حقیقت مجھ پر کھل گئی۔ وہ شخص، جسے میرا محافظ ہونا چاہیے تھا، وہ جسمانی طور پر نامرد نکلا۔ میں نے ایک عورت ہونے کے ناطے اس کا پردہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سوچا کہ شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے تین مہینے صبر کیا۔ ایک ایک دن گھٹ گھٹ کر گزارا۔ لیکن اس کا صلہ مجھے کیا ملا؟ اس نے ان تین مہینوں میں مجھ پر ظلم کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ اپنی مردانگی کی کمزوری کو چھپانے کے لیے مجھ پر غصہ نکالتا تھا۔ روز کا گالی گلوچ، روز کے جھگڑے، اور بات بات پر میری بے عزتی کرنا اس کا معمول بن گیا تھا۔ حد تو تب ہو گئی جب اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔ کبھی بات بے بات پر تھپڑ مار دیتا، تو کبھی مجھے دھکے دے کر کمرے سے نکال دیتا۔ میں روز روتی، اپنے نصیب کو کوستی، لیکن خاموش رہتی کہ کہیں میرے ماں باپ کی بدنامی نہ ہو...

مالک مکان کا بیٹا اور میری پوشیدہ کہانی

Image
مالک مکان کا بیٹا اور میری پوشیدہ کہانی, ہیلو دوستو! میں یہاں اپنا نام تو ظاہر نہیں کرنا چاہتی، لیکن اپنی زندگی کی ایک سچی کہانی آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہوں۔ یہ کہانی اس وقت شروع ہوتی ہے، جب میری ایک نئے شہر میں پوسٹنگ ہوئی۔ سب سے پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں تھوڑا بتا دوں۔ میرے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور میں چار بچوں کی اکیلی ماں ہوں۔ میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، جو اس وقت بہت چھوٹے اور کمسن تھے۔ شوہر کے جانے کے بعد، بچوں کی پرورش کے لیے میں نے ایک پرائیویٹ آفس میں نوکری شروع کر دی۔ وقت گزرتا گیا اور چار سال کیسے گزرے، پتا ہی نہیں چلا۔ میں اپنے بچوں کی چھوٹی سی دنیا میں بہت خوش تھی۔ میری محنت رنگ لائی اور آفس میں میری ترقی ہو گئی، مجھے دوسرے شہر کے برانچ کا ہیڈ بنا کر بھیج دیا گیا۔ یہ میرے اور بچوں کے لیے ایک نیا موڑ تھا۔ میں نے نئے شہر پہنچ کر اپنے آفس کے بالکل قریب ہی کرائے پر ایک گھر لے لیا۔ اس گھر کے نچلے حصے (گراؤنڈ فلور) میں مالک مکان رہتے تھے، جبکہ اوپر والا حصہ میں نے رینٹ پر لیا تھا۔ میری زندگی کا ایک سخت اور طے شدہ معمول بن چکا تھا۔ صبح بچوں کو تیار کر کے ...

ماں کو پتا چل گیا

Image
  میرا نام مائزہ ہے، عمر 41 سال ہے۔ جب میں جوان ہوئی تو ایک دن صبح کو مجھے پہلی بار ماہواری شروع ہوئی۔ میں نے سفید قمیض شلوار پہنی ہوئی تھی اور کرسی پر بیٹھ کر ناشتہ کر رہی تھی۔ مجھے خود اس وقت اس بارے میں زیادہ پتا نہیں تھا۔ میں نے گھبرا کر پوچھا: "مما یہ کیوں ہوا؟ کیا میں بیمار ہوں؟"  مما نے ہنس کر کہا: "نہیں بیٹا، یہ تو ہر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ بڑی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اب تم جوان ہو گئی ہو"۔                              اگلی قسط میں تم جانو گے کہ اس رات کے بعد میری زندگی کیسے بدل گئی... کل رات 9 بجے"                  

میری 16 سال کی عمر کا وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی

Image
میری 16 سال کی عمر کا وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی_    ۔۔۔۔۔۔۔۔﴿  انمول  )۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اپنی   (داستان) شروع کرتی ہوں,                           ( دوستو... جب میں اپنے پاپا کی  دیکھتی ہوں کہ وہ میری مما سے کتنی عزت اور محبت سے پیش آتے ہیں، تو دل میں ایک خواہش جاگتی ہے کہ کاش مجھے بھی زندگی میں ایسا ہی ساتھ ملے۔ خیر، جب میں نے 16 سال کی دہلیز پر قدم رکھا تو لگا جیسے زندگی کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہو۔ میں بھی اب بڑی ہو رہی تھی اور اپنے گھر والوں کے لیے خاص تھی۔ ایک دن میں اپنی فیملی یعنی مما اور پاپا کے ساتھ شاپنگ کے لیے گئی۔ شاپنگ کر کے ہم اپنی گاڑی میں گھر واپس آ رہے تھے کہ راستے میں کچھ لڑکوں نے ہماری گاڑی روک لی۔ وہ بدتمیزی پر اتر آئے اور ہمیں ڈرانے لگے۔ پاپا نے انہیں سمجھانے کی کوش کی اور کہا کہ بدتمیزی نہ کریں، لیکن وہ باز نہ آئے۔ معاملہ بڑھنے لگا تو ایک لڑکے نے پستول نکال لی اور مجھے زبردستی گاڑی سے باہر نکالنے کی کوش کی۔ میں بہت ڈر گئی اور مما پاپا بھی پریشان ہو گئے۔ م...