ناصر کا بَبلو دیکھ کر میں
ھیلو دوستوں میں ھوں آپ کی شنو جان ھیلو دوستوں میں ھوں آپ کی شنو جان یہاں ملے گی تمہیں سچی، گرم اور دل دھڑکانے والی کہانیاں پڑھو، مزہ لو، اور کمنٹ میں بتا ملے گی تمہیں سچی، گرم اور دل دھڑکانے والی کہانیاں پڑھو، مزہ لو، اور کمنٹ میں بتاؤ کیسی لگی اگر تمہارے پاس۔بھی کوئی سچی کہانی ہے تو مجھے ای میل کرو، میں تمہارے نام کے ساتھ شیئر کروں گی ہر روز نئی کہانی، نیا مزہ، ✓ خبردار کاپی کرنا منع ھے، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ھوگی،💾 Copying is prohibited. Legal action will be taken against violations
"شادی کے لیے میرے بڑے ارمان تھے۔ ہر لڑکی کی طرح میں نے بھی سوچا تھا کہ ایک نیا گھر ہوگا، محبت کرنے والا شوہر ہوگا، اور میری اپنی ایک چھوٹی سی دنیا ہوگی۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میری قسمت میں صرف آنسو اور ذلت لکھی ہے۔
شادی کی پہلی رات ہی حقیقت مجھ پر کھل گئی۔ وہ شخص، جسے میرا محافظ ہونا چاہیے تھا، وہ جسمانی طور پر نامرد نکلا۔ میں نے ایک عورت ہونے کے ناطے اس کا پردہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سوچا کہ شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے تین مہینے صبر کیا۔ ایک ایک دن گھٹ گھٹ کر گزارا۔ لیکن اس کا صلہ مجھے کیا ملا؟ اس نے ان تین مہینوں میں مجھ پر ظلم کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ اپنی مردانگی کی کمزوری کو چھپانے کے لیے مجھ پر غصہ نکالتا تھا۔ روز کا گالی گلوچ، روز کے جھگڑے، اور بات بات پر میری بے عزتی کرنا اس کا معمول بن گیا تھا۔ حد تو تب ہو گئی جب اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔ کبھی بات بے بات پر تھپڑ مار دیتا، تو کبھی مجھے دھکے دے کر کمرے سے نکال دیتا۔
میں روز روتی، اپنے نصیب کو کوستی، لیکن خاموش رہتی کہ کہیں میرے ماں باپ کی بدنامی نہ ہو۔ تین مہینے تک میں نے یہ جہنم برداشت کیا۔
ممی نے جب یہ سب سنا تو انہوں نے فوری طور پر میرے چھوٹے بھائی کو بتایا۔ مجھے پہلے سے پتا تھا کہ میرا بھائی ہی وہ انسان ہے جو اس جہنم سے نکلنے میں میری بھرپور مدد کرے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی بھائی کو معلوم ہوا، وہ مجھ پر بہت غصہ ہوا؛ اس کا غصہ مجھ پر نہیں، بلکہ اس بات پر تھا کہ میں اتنے مہینوں تک یہ سب چپ چاپ کیوں برداش کرتی رہی۔ اس نے مجھ سے کہا، 'باجی! آپ نے اتنی تکلیف کیوں سہی؟ آپ کو پہلے دن ہمیں بتانا چاہیے تھا!'
میرا چھوٹا بھائی میری طلاق کروانے میں سب سے آگے رہا۔ اس نے بڑھ چڑھ کر میرا ساتھ دیا اور ایک سائے کی طرح میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ معاملہ کورٹ کچہری کے طویل چکروں میں پڑنے کے بجائے، صرف وکیل تک پہنچا، کیونکہ میرے بھائی نے اپنی سمجھداری اور ہمت سے وکیل کے ذریعے ہی بات چیت کر کے بہت جلد مجھے طلاق دلا دی۔
اگلا پارٹ جلد ھی اپلوڈ ھوگا
Comments
Post a Comment