ناصر کا بَبلو دیکھ کر میں

Image
ناصر کا ببلو دیکھ کر میں ہائے میرا نام شنو ہےمیری دوست نوشین کی زبانی بڑی زبردست کہانی ہے ہائے میرا نام نوشین ہے میری عمر اِس وقت 30 سال ہے میرے مَمَّوں کا سائز 32 ہے میرا قد 5 فٹ 4 انچ ہے میرے بھائی کا نام ناصر ہے یہ کہانی نہں حقیقت ہے میں اپنی کہانی شروع کرتی ہوں تو سُنو  جب میری عمر 13 سال کی تھی تو میں ناصر کے کمرے صفائی  کرنے آئی ناصر کی الماری صاف کر رھی اچانک الماری کے اوپر مجھے سی ڈی پڑی ہوئی نظر آئی میں نے اٹھا کے ڈیویڈی پلیر میں چلائی تو ننگی فلم تھی جب میں فلم دیکھی تو گرم ھو گئی اور پوری فلم دیکھی اور ختم ھو گئی تو پھر میں نکال کر جلدی سے فلمیں وہی الماری کے اوپر رکھ دی فلم دیکھنے کا مزہ بہت آیا اور پتا بھی چل گیا کے اس طرح کام ھوتا ھے پھر رات کو میرے مَن میں آیا کے دیکھو اِس وقت ناصر کیا کر رہا ھے تو میں ناصر کے روم ڈور کے پاس آئی اور تھوڑا سا ڈور اوپن کر کے دیکھی تو ناصر ننگی فلم دیکھ رہا تھا اور اپنے ببلو کو باہر نکال کر سہلا رہا تھا ناصر کا ببلو جب سے دیکھی تو میری بِلی میں آگ لگ گئی سوچتی ناصر کا ببلو کیسے لوں اور اِسی طرح ہر روز ناصر کا ببلو بھی دیکھتی او...

شادی کیلئے میرے بڑے ارمان تھے

 


شادی کیلئے میرے بڑے ارمان سے



"شادی کے لیے میرے بڑے ارمان تھے۔ ہر لڑکی کی طرح میں نے بھی سوچا تھا کہ ایک نیا گھر ہوگا، محبت کرنے والا شوہر ہوگا، اور میری اپنی ایک چھوٹی سی دنیا ہوگی۔ لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ میری قسمت میں صرف آنسو اور ذلت لکھی ہے۔


شادی کی پہلی رات ہی حقیقت مجھ پر کھل گئی۔ وہ شخص، جسے میرا محافظ ہونا چاہیے تھا، وہ جسمانی طور پر نامرد نکلا۔ میں نے ایک عورت ہونے کے ناطے اس کا پردہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سوچا کہ شاید وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے تین مہینے صبر کیا۔ ایک ایک دن گھٹ گھٹ کر گزارا۔ لیکن اس کا صلہ مجھے کیا ملا؟ اس نے ان تین مہینوں میں مجھ پر ظلم کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ اپنی مردانگی کی کمزوری کو چھپانے کے لیے مجھ پر غصہ نکالتا تھا۔ روز کا گالی گلوچ، روز کے جھگڑے، اور بات بات پر میری بے عزتی کرنا اس کا معمول بن گیا تھا۔ حد تو تب ہو گئی جب اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔ کبھی بات بے بات پر تھپڑ مار دیتا، تو کبھی مجھے دھکے دے کر کمرے سے نکال دیتا۔


میں روز روتی، اپنے نصیب کو کوستی، لیکن خاموش رہتی کہ کہیں میرے ماں باپ کی بدنامی نہ ہو۔ تین مہینے تک میں نے یہ جہنم برداشت کیا۔


آخر کار، جب پانی سر سے اونچا ہو گیا اور میری روح تک زخمی ہو گئی، تو میں ٹوٹ گئی۔ میں نے ہمت کی اور اپنی ممی کو فون کر کے روتے ہوئے اپنے دل کا سارا حال سنا دیا۔


ممی نے جب یہ سب سنا تو انہوں نے فوری طور پر میرے چھوٹے بھائی کو بتایا۔ مجھے پہلے سے پتا تھا کہ میرا بھائی ہی وہ انسان ہے جو اس جہنم سے نکلنے میں میری بھرپور مدد کرے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی بھائی کو معلوم ہوا، وہ مجھ پر بہت غصہ ہوا؛ اس کا غصہ مجھ پر نہیں، بلکہ اس بات پر تھا کہ میں اتنے مہینوں تک یہ سب چپ چاپ کیوں برداش کرتی رہی۔ اس نے مجھ سے کہا، 'باجی! آپ نے اتنی تکلیف کیوں سہی؟ آپ کو پہلے دن ہمیں بتانا چاہیے تھا!'


میرا چھوٹا بھائی میری طلاق کروانے میں سب سے آگے رہا۔ اس نے بڑھ چڑھ کر میرا ساتھ دیا اور ایک سائے کی طرح میرے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ معاملہ کورٹ کچہری کے طویل چکروں میں پڑنے کے بجائے، صرف وکیل تک پہنچا، کیونکہ میرے بھائی نے اپنی سمجھداری اور ہمت سے وکیل کے ذریعے ہی بات چیت کر کے بہت جلد مجھے طلاق دلا دی۔


اگر آج میرا بھائی میرے ساتھ نہ کھڑا ہوتا، تو شاید میں اس دلدل سے کبھی نہ نکل پاتی۔ میرے ارمان تو ٹوٹ گئے، لیکن مجھے ایک نئی زندگی مل گئی

اگلا پارٹ جلد ھی اپلوڈ ھوگا





Comments

Popular posts from this blog

میری 16 سال کی عمر کا وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی

ماں کو پتا چل گیا

مالک مکان کا بیٹا اور میری پوشیدہ کہانی