وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا 2

Image
  وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا پارٹ (2) شوہر کے مرنے کے چار مہینے بعد ممی مجھے پھر سے شادی کیلئے بولنے لگی مگر شوہر کے مرنے کے غم سے ابھی باہر نہیں نکل پا رھی تھی شوہر کی ہر ادا مجھے یاد آتی تو میں چھپ کر پھوٹ پھوٹ کر رو لیتی ممی مجھے شادی کیلئے بہت بولتی میں ہر بار منع کر دیتی اس کے بعد پاپا بھی مجھے شادی کیلئے کہنے لگا کہتا بیٹی جو ھو گیا قسمت کو یہی منظور تھا ہمیں  تمہارا یہ غم نہیں دیکھا جاتا میرے دوست کا بیٹا ھے وہ تمہیں خوش رکھے گا اپنی زندگی کو نئے سے شروع کرو جس کو جانا ھوتا ھے اسے کوئی نہیں روک سکتا ہماری بات مان لو جب میں نے پاپا کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تو میں نے ہاں کر دی اور میری دوسری شادی کر دی گئی میں ڈری ہوئی تھی لیکن دل میں ایک نئی امید نے جنم لیا پھر سے ایک بار میں دلہن بنی بیٹھی تھی جب شوہر روم میں آیا تو مجھے چومتے کہا تمہیں اتنا پیار دوں گا کے تم سارا غم بھول جاؤ گی شوہر نے مجھے چومنا شروع کر دیا میرے اندر بھی گرمی آگ بھڑکنے لگی شوہر نے میرے کپڑے اتار کر میرا ننگا بدن دیکھ کر بہت تعریف کی اور میں بھی مستی م...

میں گرلز ہاسٹل پڑھنے آئی

ھیلو دوستو میرا نام اُوشہ ھے، یہ میری زندگی کا وہ موڑ تھا جس نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ دوستو، یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں صرف تیرہ سال کی تھی۔ میں بچپن ہی سے بہت معصوم، ہنس مکھ اور چنچل سی لڑکی تھی۔ طبیعت میں شرارت کوٹ کوٹ کر بھری تھی اور ضد کی تو پکی تھی، جس بات پر اڑ جاتی، وہی کر کے دم لیتی جو میرا من کہتا

 اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں میں سب سے 

چھوٹی اور لاڈلی ہونے کی وجہ سے گھر میں میری ہر ناز نخرے اٹھائے جاتے تھے۔


جب میں چودہ سال کی ہوئی، تو میری اعلیٰ تعلیم کے لیے گھر والوں نے مجھے شہر کے ایک گرلز ہاسٹل بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ہاسٹل کی زندگی میرے لیے بالکل نئی تھی۔ وہاں ہر کمرے میں دو بیڈ لگے تھے اور دو لڑکیاں مل کر ایک روم 



شیئر کرتی تھیں۔ ہاسٹل کی وارڈن آنٹی نے مجھے میرا کمرہ دکھایا۔ کمرے میں دوسرا بیڈ خالی دیکھ کر میں پوچھی کہ یہاں کون رہتی ہے؟ آنٹی نے بتایا، "یہ بیڈ کویتا کا ہے، وہ تین دن کے لیے اپنے گھر گئی ہوئی ہے اور آج کسی بھی وقت واپس آ جائے گی۔" یہ کہہ کر آنٹی چلی گئیں۔



میں نے اپنا سامان ایک طرف رکھا۔ میری نظر دیوار پر لگی ایک تصویر پر پڑی، وہ کویتا کی تھی۔ تصویر میں وہ بے حد پیاری اور پرکشش لگ رہی تھی۔ خیر، سفر کی تھکن کی وجہ سے میں بیڈ پر لیٹ گئی، آنکھیں بند کی اور نہ جانے کب مجھے گہری نیند آگئی۔


کچھ گھنٹوں بعد جب میں نے کروٹ لی اور میری آنکھ کھلی، تو میں نے سامنے والے بیڈ کی طرف دیکھا۔ وہاں کویتا بیٹھی ہوئی تھی اور بہت دھیان سے ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ میں اٹھ کر بیٹھی اور مسکرا کر اسے "ہائے" کہا۔ اس نے بھی کتاب سے نظریں ہٹا کر مجھے دیکھا اور ایک دلکش مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ اس کے بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کا تعارف کروایا۔ باتوں کا سلسلہ ایسا چلا کہ وقت کا پتہ ہی نہ چلا۔ ہم نے ساتھ کھانا کھایا، دیر تک گپ شپ کی 


،اور پھر سو گئے



وقت پر لگا کر اڑنے لگا، دن گزرتے گئے اور ہم دونوں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے بہت اچھی دوست بن گئی۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں، میں نے ایک عجیب بات نوٹس کی۔ جب ہم رات کو سوتے، تو کویتا اکثر رات کے کسی پہر عجیب سی آوازیں نکالتی، جیسے کوئی گہری نیم بے ہوشی یا مستی میں غراتا ہے۔ کویتا کا اس طرح غرانا مجھے چونکا دیتا اور میری نیند اڑ جاتی۔ میں سوچ میں پڑ جاتی کہ وہ رات کو اس طرح کیوں کرتی ہے؟


ایک دو بار میں نے اس کے بیڈ کے پاس جا کر پوچھا، "کویتا! تم ٹھیک تو ہو نا؟"


وہ ہڑبڑا کر کہتی، "ہاں یار! میں بالکل ٹھیک ہوں، بس مجھے نیند میں اس طرح آوازیں نکالنے کی پرانی عادت ہے۔"


اب یہ سلسلہ بڑھتا گیا، وہ ہر تین چار دن بعد رات کو اسی طرح غراتی۔ جب بھی میری آنکھ کھلتی، میں دیکھتی کہ کویتا نے خود کو سر سے پاؤں تک رضائی میں چھپائی ہوئی ہوتی تھی، لیکن رضائی کے اندر اس کی ہرکتوں سے صاف محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ کچھ کر رہی ہے۔ اس کے غراننے میں ایک عجیب سی تڑپ اور مستی ہوتی تھی، جو اب آہستہ آہستہ میرے اندر بھی ایک عجیب سی بے چینی اور سنسنی پیدا 


کرنے لگی تھی۔



میں نے کئی بار صبح اٹھ کر اس سے کرید کر پوچھنے کی کوشش کی کہ "تم رات کو رضائی میں کیوں غراتی ہو؟" لیکن وہ ہر بار شرما کر یا بات گھما کر میری بات کو نظر انداز کر دیتی۔ اس کا یہ اصرار میرے تجسس کو اور بڑھا رہا تھا۔



پھر ایک رات وہی ہوا۔ کمرے میں اندھیرا تھا اور کویتا کی رضائی سے پھر وہی گہری، مستانی غراہٹ اور سانسوں کی تپش ابھرنے لگی۔ اب میرا صبر جواب دے چکا تھا، مجھ سے مزید رہا نہ گیا۔ میں چپکے سے اپنے بیڈ سے اٹھی، دبے قدموں اس کے بیڈ کے پاس جا کر کھڑی ہوئی اور بنا کچھ سوچے سمجھے، ایک ہی جھٹکے سے کویتا کی رضائی اوپر سے ہٹا دی۔



رضائی ہٹتے ہی جو منظر میرے سامنے تھا، اسے دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے اور میں دنگ رہ گئی کیونکہ میں دیکھی کہ کویتا،


رضائی ہٹتے ہی جو منظر میرے سامنے تھا، اسے دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے اور میں دنگ رہ گئی کیونکہ میں دیکھی کہ کویتا... 😱 ہوسٹل کی اس رات کا یہ کالا سچ آپ کے بھی رونگٹے کھڑے کر دے گا! کہانی کا دوسرا اور سسپنس سے بھرپور حصہ نیچے لنک پر اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔ جلدی سے کلک کریں اور آگے دیکھیں۔ 👇



 [یہاں کلک کریں اور دوسرا پارٹ پڑھیں




Comments

Popular posts from this blog

وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی

ماں کو پتا چل گیا

میں نے ایک بیوہ کو مکان کرائے پر دیا