وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا 2

Image
  وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا پارٹ (2) شوہر کے مرنے کے چار مہینے بعد ممی مجھے پھر سے شادی کیلئے بولنے لگی مگر شوہر کے مرنے کے غم سے ابھی باہر نہیں نکل پا رھی تھی شوہر کی ہر ادا مجھے یاد آتی تو میں چھپ کر پھوٹ پھوٹ کر رو لیتی ممی مجھے شادی کیلئے بہت بولتی میں ہر بار منع کر دیتی اس کے بعد پاپا بھی مجھے شادی کیلئے کہنے لگا کہتا بیٹی جو ھو گیا قسمت کو یہی منظور تھا ہمیں  تمہارا یہ غم نہیں دیکھا جاتا میرے دوست کا بیٹا ھے وہ تمہیں خوش رکھے گا اپنی زندگی کو نئے سے شروع کرو جس کو جانا ھوتا ھے اسے کوئی نہیں روک سکتا ہماری بات مان لو جب میں نے پاپا کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تو میں نے ہاں کر دی اور میری دوسری شادی کر دی گئی میں ڈری ہوئی تھی لیکن دل میں ایک نئی امید نے جنم لیا پھر سے ایک بار میں دلہن بنی بیٹھی تھی جب شوہر روم میں آیا تو مجھے چومتے کہا تمہیں اتنا پیار دوں گا کے تم سارا غم بھول جاؤ گی شوہر نے مجھے چومنا شروع کر دیا میرے اندر بھی گرمی آگ بھڑکنے لگی شوہر نے میرے کپڑے اتار کر میرا ننگا بدن دیکھ کر بہت تعریف کی اور میں بھی مستی م...

ناصر کا بَبلو دیکھ کر میں


ناصر کا ببلو دیکھ کر میں

ہائے میرا نام شنو ہےمیری دوست نوشین کی زبانی بڑی

زبردست کہانی ہے


ہائے میرا نام نوشین ہے میری عمر اِس وقت 30 سال ہے میرے مَمَّوں کا سائز 32 ہے میرا قد 5 فٹ 4 انچ ہے میرے بھائی کا نام ناصر ہے یہ کہانی نہں حقیقت ہے میں اپنی کہانی شروع کرتی ہوں تو سُنو 


جب میری عمر 13 سال کی تھی تو میں ناصر کے کمرے صفائی  کرنے آئی ناصر کی الماری صاف کر رھی اچانک الماری کے اوپر مجھے سی ڈی پڑی ہوئی نظر آئی میں نے اٹھا کے ڈیویڈی پلیر میں چلائی تو ننگی فلم تھی جب میں فلم دیکھی تو گرم ھو گئی اور پوری فلم دیکھی اور ختم ھو گئی تو پھر میں نکال کر جلدی سے فلمیں وہی الماری کے اوپر رکھ دی فلم دیکھنے کا مزہ بہت آیا اور پتا بھی چل گیا کے اس طرح کام ھوتا ھے پھر


رات کو میرے مَن میں آیا کے دیکھو اِس وقت ناصر کیا کر رہا ھے تو میں ناصر کے روم ڈور کے پاس آئی اور تھوڑا سا ڈور اوپن کر کے دیکھی تو ناصر ننگی فلم دیکھ رہا تھا اور اپنے ببلو کو باہر نکال کر سہلا رہا تھا ناصر کا ببلو جب سے دیکھی تو میری بِلی میں آگ لگ گئی سوچتی ناصر کا ببلو کیسے لوں اور اِسی طرح ہر روز ناصر کا ببلو بھی دیکھتی اور ناصر کی فلمیں 


بھی دیکھتی اور اپنی بِلی میں انگلی کرتی ایسے کرتے کرتے میں 14 سال کی ہو گئی اور میری بِلی میں خون آنا شروع ہوا یعنی ماہواری ماں کو بتایا تو ماں نے کہا اب تو جوان ہو گئی ہے اور میری شیطانی کھوپڑی میں ایک ترکیب آئی ایک رات کو میں نے پتلی اور کھلے گلے والی نائٹی پہنی اور بریزر نہیں پہنا اور چٓڈی بھی نہیں پہنی تھی نائٹی میں میرا سارا بدن صاف نظر آرہا تھا پھر میں آکر ناصر کے روم میں ناصر کے بیڈ پہ آکر لیٹ گئی


آگے کیا ھوا یہ جاننے کیلئے نیچے تصویر پر کلک کریں ⬇️






Comments

Popular posts from this blog

وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی

ماں کو پتا چل گیا

میں نے ایک بیوہ کو مکان کرائے پر دیا