وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا 2

Image
  وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا پارٹ (2) شوہر کے مرنے کے چار مہینے بعد ممی مجھے پھر سے شادی کیلئے بولنے لگی مگر شوہر کے مرنے کے غم سے ابھی باہر نہیں نکل پا رھی تھی شوہر کی ہر ادا مجھے یاد آتی تو میں چھپ کر پھوٹ پھوٹ کر رو لیتی ممی مجھے شادی کیلئے بہت بولتی میں ہر بار منع کر دیتی اس کے بعد پاپا بھی مجھے شادی کیلئے کہنے لگا کہتا بیٹی جو ھو گیا قسمت کو یہی منظور تھا ہمیں  تمہارا یہ غم نہیں دیکھا جاتا میرے دوست کا بیٹا ھے وہ تمہیں خوش رکھے گا اپنی زندگی کو نئے سے شروع کرو جس کو جانا ھوتا ھے اسے کوئی نہیں روک سکتا ہماری بات مان لو جب میں نے پاپا کی آنکھوں میں آنسوں دیکھے تو میں نے ہاں کر دی اور میری دوسری شادی کر دی گئی میں ڈری ہوئی تھی لیکن دل میں ایک نئی امید نے جنم لیا پھر سے ایک بار میں دلہن بنی بیٹھی تھی جب شوہر روم میں آیا تو مجھے چومتے کہا تمہیں اتنا پیار دوں گا کے تم سارا غم بھول جاؤ گی شوہر نے مجھے چومنا شروع کر دیا میرے اندر بھی گرمی آگ بھڑکنے لگی شوہر نے میرے کپڑے اتار کر میرا ننگا بدن دیکھ کر بہت تعریف کی اور میں بھی مستی م...

ایک رات کی حقیقت

 

وہ دن اب بھی یاد ھے



ھیلو دوستو میرا نام صبا پرویز ھے

میری شادی اپنے خاندان میں چچا کے بیٹے سے ھوئی میری زندگی میں خوشیاں ھی خوشیاں تھی، شوہر بھی مجھ سے بہت پیار کرتا مجھ پر اپنی جان وارتا تھا شادی کے تین مہینے بعد میں پیٹ سے ھو گئی، آخر مجھے بیٹا ھوا اور بیٹے کا نام شوہر نے اسلم رکھا شوہر تو گھر ھوتا نہیں تھا تو میں اپنے چھوٹے بیٹے کو ساتھ سٰلاتی تھی 



جب شوہر گھر ھوتا تو گھر خوشیوں کا گہوارہ ھوتا، اور جب شوہر گھر ھوتا تو بیٹے کے سونے کے بعد ھم اپنا کام کرتے، اور وقت اتنا تیزی بڑھنے لگا کے پتا ھی نہ چلا کے بیٹا دس سال کا ھو گیا اور میں پیٹ سے ھو گئی، ابھی مجھے ساتواں مہینہ ختم ھونے والا تھا، ایک دن شوہر کسی کام سے باہر گیا میں تیار ھوکر شوہر کیلئے کھانا بنا رھی تھی کے اچانک گیٹ کو کوئی زور زور 



سے کھٹکھٹا رہا تھا میں غصہ سے بھری گیٹ کا چھوٹا ڈور کھول کر دیکھی تو سامنے لوگ کھڑے تھے اور چارپائی پر خون سے لت پت شوہر کی لاش تھی بس دوستوں میری تو دنیا ھی اجڑ گئی اور میں بہت روئی بتایا کے ٹرک کے ساتھ ایکسیڈنٹ ھوا ھے اور موقع پر دم توڑ دیا میں اکیلی عورت دس سال کا بیٹا اور میں پیٹ سے خیر دفنا دیا گیا راتوں کو نیند نہ آتھی،



 شوہر کو یاد کرکے روتی اور خود کو سنبھالتی ایک بیٹا اور اوپر سے میں پیٹ سے زندگی کی ساری خوشیاں غم میں بدل گئی خود کو سنبھالتی رھی، اور آخر کار غم بھول گئی اور مجھے بیٹی ھوئی میں نے بیٹی کا نام امل رکھا، بیٹی بہت پیاری ھے، میں بیٹا بیٹی ساتھ سوتے، وقت گزرتا چلا جا رہا تھا اور بیٹی تین سال کی ھو گئی، اور بیٹا چودا سال کا ھو گیا، ( ایک رات کی حققیت) یہ کوئی افسانہ نہیں ھے جو میں ابھی تم سے شیر کر رھی ھوں ایک رات میں اپنے بچوں کے ساتھ سو رھی تھی کے اچانک مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



وہ رات دنیا کی نظر میں ایک گناہ تھا، میری نظر میں وہ ایک شروعات تھی، مگر اس رات کے اندھیرے میں جو حقیقت چھپی تھی اس نے قانون بدل دیا اس رات کو کیا ھوا تھا یہ حقیقت جاننے کے لیے پہلے کمنٹ میں موجود لنک پر کلک کریں 


👇


















Comments

Popular posts from this blog

وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی

ماں کو پتا چل گیا

میں نے ایک بیوہ کو مکان کرائے پر دیا