میں نے ایک بیوہ کو مکان کرائے پر دیا

مالکن کی ڈائری - چیپٹر 1: تنہائی کی دوستی

میں نے ایک بیوہ کو مکان کرائے پر دیا


بیٹا صبح کام پر چلا جاتا۔ میں گھر میں اکیلی۔ سارا دن موبائل، خاموش دیواریں۔ زندگی پھیکی لگتی تھی۔ نہ سکون، نہ کوئی بات کرنے والا۔ بس بیٹے کی وجہ سے اپنے ارمان دل میں دبا کر بیٹھی تھی۔ اب جینے کا سہارا بس وہی تھا۔


بیٹا کام بھی کرتا تھا اور پڑھائی بھی۔ اوپر والا پورشن کرائے پر دیا ہوا تھا، اسی سے گھر کا خرچ چلتا تھا۔


پہلے کرائے دار 5 مہینے رہے پھر چلے گئے۔ ایک مہینہ پورشن خالی پڑا رہا۔ بیٹے نے کہا ممی اخبار میں اشتہار دے دیتے ہیں۔ کرائے سے فایدہ تھا۔ میں بیٹے کے ساتھ
ایڈ دے آئی۔



پھر ایک دن، دوپہر کے 3 بجے ڈور بیل بجی۔ دروازہ کھولا تو میرے جیسی عمر کی ایک عورت کھڑی تھی۔ 


"ہیلو آپی، میرا نام بینا ہے۔ میں نے اخبار میں رینٹ والا ایڈ دیکھا۔ کمرہ دیکھنا تھا۔"


سن کر دل خوش ہو گیا۔ میں اسے اندر لے آئی، ٹھنڈا پانی دیا۔


"کتنے لوگ ہیں بینا؟" میں نے پوچھا۔


بینا مسکرائی، "میں اکیلی ہوں آپی۔ جاب کرتی ہوں۔ ایک سہیلی کے ساتھ رہتی تھی، وہ چلی گئی۔ اب وہاں دل نہیں لگتا تھا۔ آپ کو تکلیف نہیں دوں گی۔"


میں نے اسے اوپر کمرہ دکھایا، سب سمجھایا۔ پھر نیچے آ کر کھانا بنانے لگی۔


شام کو چائے بنا رہی تھی تو سیڑھیوں پر بینا اداس بیٹھی تھی، کسی سوچ میں گم۔


"چائے بن رہی ہے، آ جاؤ" میں بولی۔


بینا ہنس دی، "آپی، میں بھی اکیلی ہوں۔"


میں بولی، "جب بیٹا نہیں ہوتا تو میں بھی اکیلی ہوتی ہوں۔" ہم کچن میں آ گئے۔


باتوں باتوں میں بینا نے پوچھا، "بیٹا، شوہر کیا کرتے ہیں؟"


میں ہنس کر بولی، "بیٹا جب 10 سال کا تھا، شوہر گزر گئے۔ بس بیٹا ہی سب کچھ ہے۔"


پھر میں نے پوچھا، "بینا، تم اداس لگتی ہو۔ کوئی بات دل میں ہے تو شیئر کر دو، من ہلکا ہو جائے گا۔"


بینا کی آنکھیں نم ہو گئیں، "سہیلی بہت یاد آ رہی ہے آپی۔ شوہر کو گزرے 2 سال ہو گئے۔ بس وہی ایک تھی، وہ بھی چلی گئی۔"


میں نے اس کا ہاتھ پکڑا، "ارے یار، آج سے مجھے دوست سمجھو۔"


بینا مسکرا دی، "آپی، آپ بہت اچھی ہیں۔"


"رات کا کھانا میری طرف سے" میں نے کہا۔


بینا بولی، "آپی میں کرائے دار ہوں۔"


میں ہنسی، "ہاں یار، پر تم آپی کہتی ہو نا۔" 


چائے پی، گپ شپ ہوئی۔ پھر ہم کھانا بنانے لگ گئیں۔ کھانا تیار ہوا تو بیٹا بھی آ گیا۔


میں نے بتایا، "بیٹا، بینا نے اوپر والا پورشن لے لیا ہے۔"


بیٹے کو دیکھ کر بینا بولی، "آپی، آپ کا بیٹا اتنا بڑا ہے اور آپ ابھی تک جوان لگتی ہیں۔"


میں شرما گئی، "شوہر کو شادی کی جلدی تھی۔"


پھر میں نے پوچھا، "تمہارے بچے؟"


بینا نے سر جھکا لیا، "میں بانجھ ہوں آپی۔ شوہر جانتا تھا، اس نے کبھی احساس نہیں ہونے دیا۔ اب بس کام میں مصروف رہتی ہوں۔"


ہم تینوں نے باتیں کرتے کھانا کھایا اور سو گئے۔ صبح بینا جاب پر چلی گئی۔


سارا دن گھر خالی تھا۔ پتہ نہیں کیوں، بینا کی باتیں بار بار یاد آ رہی تھیں۔ دل میں ایک عجیب سی اپنائیت سی ہونے لگی تھی۔


---

**[جاری ہے... چیپٹر 2 میں پڑھیں: تنہائی کی دوستی کب محبت بن گئی]**




Comments

Popular posts from this blog

میری 16 سال کی عمر کا وہ دن جو کبھی نہیں بھولوں گی

ماں کو پتا چل گیا