وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا 2
ھیلو دوستوں میں ھوں آپ کی شنو جان ھیلو دوستوں میں ھوں آپ کی شنو جان یہاں ملے گی تمہیں سچی، گرم اور دل دھڑکانے والی کہانیاں پڑھو، مزہ لو، اور کمنٹ میں بتا ملے گی تمہیں سچی، گرم اور دل دھڑکانے والی کہانیاں پڑھو، مزہ لو، اور کمنٹ میں بتاؤ کیسی لگی اگر تمہارے پاس۔بھی کوئی سچی کہانی ہے تو مجھے ای میل کرو، میں تمہارے نام کے ساتھ شیئر کروں گی ہر روز نئی کہانی، نیا مزہ، ✓ خبردار کاپی کرنا منع ھے، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ھوگی،💾 Copying is prohibited. Legal action will be taken against violations
6ڈاکٹر صفرا کی ڈائری: صفحہ نمبر
(ایک نیا موڑ اور جذباتی اعتراف)
ان دنوں میں، میں کلینک کے اس کمرے میں بیٹھ کر اسی نوجوان کے بارے میں سوچتی رہی۔ کیا میری ادویات اور اس دن کے اس جاندار لمس نے اس کے اندر کا مرد جگایا ہوگا؟ کیا اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہوگی؟ انہی سوالات کے جوابات کا مجھے انتظار تھا۔
ٹھیک، شام کے وقت، دروازے پر دستک ہوئی اور وہ کمرے میں داخل ہوا۔
## 🌟 بدلا ہوا انداز اور نئی چمک
اس بار جب وہ اندر آیا، تو اس کی چال میں وہ پہلے والی گھبراہٹ نہیں تھی۔ اس کا سر جھکا ہوا نہیں تھا، بلکہ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا اعتماد اور چہرے پر سرخی تھی۔
میں نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی اور مسکرا کر پوچھا: تشریف رکھیے۔
تو بتائیے، ایک ہفتہ کیسا گزرا؟ میری دواؤں نے اپنا اثر دکھایا یا نہیں؟" مریض نے کرسی سنبھالی، وہ چند لمحے مجھے دیکھتا رہا اور پھر گہری سانس لے کر بولا: "ڈاکٹر صاحبہ... آپ کی دواؤں نے تو جیسے میرے مرجھائے ہوئے وجود میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا۔ میں اب خود کو پہلے سے کہیں زیادہ توانا اور مضبوط محسوس کر رہا ہوں!"
میں نے بات کو مزید کریدتے ہوئے، دھیمی اور پرکشش آواز میں پوچھا: "یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ لیکن مجھے یہ جاننا ہے کہ کیا آپ کی خانگی زندگی میں کوئی بدلاؤ آیا؟ آپ کی گھر والی کا رویہ اب کیسا ہے؟"
مریض کا چہرہ اس سوال پر تھوڑا سنجیدہ ہوا، لیکن اس کی آنکھوں میں اب شکست کا خوف نہیں تھا۔
اس نے جواب دیا: "ڈاکٹر صاحبہ، جب میں اس رات گھر گیا، تو میرے اندر ایک بالکل نیا احساس تھا۔ میں نے اپنے خوف پر قابو پایا۔ جب ہماری قربت ہوئی، تو اس نے میری مردانگی کے اس نئے روپ کو شدت سے محسوس کیا۔ وہ حیران رہ گئی کہ جو مرد چند دن پہلے تک اس سے نظریں چراتا تھا، آج اس کے وجود پر حاوی تھا۔"
وہ تھوڑا سا آگے جھکا اور اس کی آواز میں ایک سنسنی خیز کھنک تھی: "لیکن ڈاکٹر صاحبہ، سچ تو یہ ہے کہ جب بھی میں اس کے قریب جاتا ہوں، مجھے اس رات آپ کے ہونٹوں اور زبان کا وہ لمس یاد آ جاتا ہے... میری اصل طاقت ادویات سے زیادہ، آپ کے اس والہانہ انداز سے آئی ہے۔"
یہ سن کر میرے اندر کی عورت ایک بار پھر بیدار ہونے لگی۔ کمرے کی فضا میں دوبارہ وہی پرانی تپش لوٹ آئی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس کی نظریں اب میرے وجود کے نسوانی ابھاروں پر ٹکی ہوئی تھیں، اور اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ وہ اب صرف ایک مریض نہیں تھا، بلکہ ایک تندرست اور پرعزم مرد بن کر میرے سامنے بیٹھا تھا۔
میں نے ایک سحر انگیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا: "تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا علاج کام کر رہا ہے۔ لیکن ابھی کورس مکمل ہونا باقی ہے..."
------------------------------
دوستو! کہانی یہاں ایک ایسے موڑ پر آ گئی ہے جہاں ایک معالج اپنے ہی مریض کے سحر میں دوبارہ گرفتار ہونے لگی ہے۔ کیا ڈاکٹر صفرا اس نئے اور توانا مرد کے ساتھ اپنی حدود کو برقرار رکھ پائیں گی؟
مجھے کمنٹس میں بتائیں کہ کیا ڈاکٹر صفرا کو اس کا علاج جاری رکھنا چاہیے؟ اگلی سنسنی خیز قسط کے لیے صفحہ نمبر 7 کا انتظار کریں!
Comments
Post a Comment