وہ گناہ جس نے موت کے کالے سائے کو ہمیشہ کیلئے بھگا دیا 2
ھیلو دوستوں میں ھوں آپ کی شنو جان ھیلو دوستوں میں ھوں آپ کی شنو جان یہاں ملے گی تمہیں سچی، گرم اور دل دھڑکانے والی کہانیاں پڑھو، مزہ لو، اور کمنٹ میں بتا ملے گی تمہیں سچی، گرم اور دل دھڑکانے والی کہانیاں پڑھو، مزہ لو، اور کمنٹ میں بتاؤ کیسی لگی اگر تمہارے پاس۔بھی کوئی سچی کہانی ہے تو مجھے ای میل کرو، میں تمہارے نام کے ساتھ شیئر کروں گی ہر روز نئی کہانی، نیا مزہ، ✓ خبردار کاپی کرنا منع ھے، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ھوگی،💾 Copying is prohibited. Legal action will be taken against violations
اس وقت رات کے 12 بج رہے ہیں میں آپ دوستوں سے اپنے دل کی بات شیئر کر رہی ہوں
تو دوستو میں نے اپنی زندگی کو بہت خوبصورت پایا پھر آخر وہ وقت آ پہنچا جب میری جوانی کو بند کلی سے کھل کر گلاب بنانے کا ہوا کیونکہ میں پڑھتی بھی تھی اور اپنی ممی کے ساتھ کبھی کبھی کام پر بھی جاتی تھی جس گھر میں ممی کام کرتی تھی اس گھر میں دو افراد تھے میاں بیوی بس تھے
میم جو تھی وہ بہت پیاری اور اچھی تھی صاحب بھی اچھے تھے پر صاحب جو تھے وہ ٹھرکی مزاج کے تھے اور صاحب کی ٹھرک میں بہت مزہ بھی تھا اکثر صاحب مجھے دیکھتا اور میری تعریف کرتا میں مسکراتی اور میم بھی میری تعریف کرتی تھی
میم نے مجھے کالج میں ایڈمیشن دلایا میں پڑھتی بھی اور کبھی کبھی میں میم کو ملنے جاتی کبھی میم مجھے بلا لیتی صاحب دھیرے دھیرے مجھے چھونے لگا جب صاحب مجھے چھوتا تو میں مسکراتی دیتی اور صاحب کے چھونے میں مجھے مزہ آتا میم اور صاحب کبھی کبھی پڑھائی کا پوچھتے تو میں انگلش میں فر کرکے بولتی میم اور صاحب میری انگلش سُن کے کہتے نائیلہ تم انگلش کتنی اچھی بولتی ہو
پھر میرا پیپر ہوا اور میں نے ٹاپ کیا فرسٹ پوزیشن میں ٹاپ کیا آج میں بہت خوش تھی میں نے سوچا کے سیدھا کالج سے میم صاحب کے گھر جا کر اپنی خوشی بیان کروں ۔ میں میم صاحب کے گھر خوشی خوشی آئی ۔
اندر آئی تو صاحب ملے۔ میں نے خوشی سے صاحب کو جپھی ڈالی اور میں نے کہا ۔ صاحب جی میں نے فرسٹ پوزیشن میں ٹاپ کیا ہے ۔
صاحب نے شاباش دی اور گلے لگا لیا۔ ان کی بانہوں میں آتے ہی میرا پورا جسم کانپ گیا۔
دل میں ایک عجیب سی آگ لگ گئی تھی۔ سانسیں تیز ہو گئیں۔ لگا جیسے میں ہوا میں اڑ رہی ہوں۔ صاحب بہت قریب تھے... اتنے قریب کہ ان کی دھڑکن میں اپنی دھڑکن سن رہی تھی۔
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ دل چاہا کہ یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو۔ خوشی تھی... ڈر بھی تھا... شرم بھی تھی... پر صاحب کے ساتھ ہونے کا سکون سب سے بڑا تھا۔ پھر صاحب نے مجھے بیٹھنے کو کہا، پھر
صاحب آئسکریم اور چاکلیٹ کا ڈبہ لائے اور چاکلیٹ کا ڈبہ کھولا اور ٹیبل پہ چاکلیٹ پھیلادی پھر آئسریم سے بھرا ھوا چمچہ میرے مُنہ میں دیتے ھوئے کہا ۔۔۔۔ یہ میری طرف سے اور مجھے کہا مُنہ کھولوں اور اسے اپنے مُنہ میں لو۔۔۔ میں نے مُنہ کھولا صاحب نے آئسکریم سے بھرا ھوا چمچہ میرے مُنہ میں دیا
میرے سینے پر تھوڑی سی آئسکریم گری تو صاحب صاف کرتے کہنے لگا اگر داغ نہیں جائے گا تو نیو ڈریس لے دوں گا
**آگے نائلہ کے ساتھ کیا ہوا مکمل کہانی پڑھنے کے لیے تصویر پر کلک کریں 👇**
Comments
Post a Comment